ابونا بيشوي الأنبا بولا
أبونا بيشوي الأنبا بولا
الأنبا بولا مطران طنطا وتوابعها
الراهب المتوحد القمص بيشوي أنبا بولا
الأنبا دانيال أسقف ورئيس دير الأنبا بولا بالبحر الأحمر
فن قبطي 🎨
Properties of Quadrilaterals, Properties of Parallelogram, Properties of Kite, Properties of Rhombus, Rectangle, Square & Trapezoid.
خراب أورشليم و إحتراق الهيكل الثاني (المؤرخ اليهودي) يوسيفوس تعريب د . بولا ساويرس
<< Εκείνο που σπέρνει ο άνθρωπος σ'αυτήν την ζωή, αυτό και θα θερίσει κατά την ημέρα της Κρίσεως>> - ΜΕΓΑΣ ΒΑΣΙΛΕΙΟΣ
چھوڑیں۔۔۔میرا ہاتھ۔“ اس نے پوری قوت لگاتے اپنا آپ چھڑوانا چاہا لیکن وہ یک دم اسے نزدیک کرتا اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولا۔ ”میں جا رہا ہوں شادی کی شاپنگ کرنے۔ اگر کچھ چاہیے تو بتا دو۔ اور ہاں مجھ سے یہ فرار پانے کی کوششیں چھوڑ دو۔ ورنہ بہت برا پیش آؤں گا۔“ وہ اتنی سختی سے بولا کہ عندلیب کو اس سے ڈر لگنے لگا تھا۔ #سایہ_عشق #حوریہ_چوہدری Episode 8 Uploaded On #Classic_Digital_Libraries Inbox us to book Subscription..
موقع بولاريجيا 🏛🇹🇳الاثري وهي مدينة الأثرياء في عصرها من ولاية جندوبة بولا الملكية مدينة بنيت تحت الارض مازالت كما هي تحافظ على مبانيها وطابعها المعماري منذ آلاف السنين الا تستحق ان تكون على لائحة التراث العالمي!!!؟ واحد من أجمل المواقع التاريخية الاثرية في شمال إفريقيا و العالم 🇹🇳
حضور غوثِ پاک کی عظمت کا دارومدار شیخ محمد قائد روانی بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضور غوثِ اعظم علیہ الرحمہ سے دریافت کیا کہ آپ کی بزرگی وعظمت کا دارومدار کس بات پر ہے؟ آپ علیہ الرحمہ نے فرمایا : راست گوئی پر میں نے کبھی جھوٹ نہیں بولا حتی کہ جب میں مکتب میں پڑھتا تھا اس وقت بھی ۔ (قلائدالجواہر،ص:35)
#Horain_Hoor 🙆🙆🙆 " تم کیسی لڑکی سے شادی کروگے خان ؟ تمہاری کیا ڈیمانڈز ہیں۔ " " مجھے جس سے محبت ہوئی میں اس سے شادی کرونگا۔ " بنا دیری کے جواب دیا۔ سعد : " محبت پر یقین رکھتے ہو۔" " جی بہت مخلص اور خوبصورت جذبہ ہے ۔۔" مسکرا کر جواب دیا۔ " جیسے کے ؟" سعد نے دوبدو پوچھا۔ " جیسے مجھے آپ سے محبت ہے۔" اسکے جواب پر سعد قہقہ لگا کر ہنس پڑا۔ " خان تم مجھ سے اظہارِ محبت کررہے ہو ؟" چھیڑا۔ " جی سرکار" وہ بنا جھجھکے بولا۔ #Classic_Ebook_Editing_2022 @FaryalKhan396
#Horain_Hoor 🙆🙆🙆 " میری غلطی نہیں ہے۔آپ کو نہیں پتا تھا کہ کلاس کا ٹائم شروع ہوچکا ہے پھر بھی آپ ایسے بیٹھی ہوئی تھیں ۔" اپنی گھبراہٹ پہ قابو پاتے ہوئے وہ سخت لہجے میں بولا۔ایمان کلاس سے کیا نکلتی الٹا اسکے گلے پڑھ گئی تھی۔ " یہ دیکھیں سر ۔دس بج کر دو منٹ ہوئے ہیں۔آپ کی کلاس دس بجے شروع ہوتی ہے۔لیکن آپ دس بجنے سے ایک منٹ پہلے کلاس میں داخل ہوئے تھے۔تو آپ پہلے آئے ہیں ،اس میں میری تو کوئی غلطی نہیں ہے ۔" #Classic_Ebook_Editing_2022 @FaryalKhan396
#fashion #neckdesine بلاشبہ انگریزی ایک بہت امیر کبیر زبان ہے مگر اتنا وسیع دامن رکھنے کے باوجود اس میں کچھ لفظوں کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے ۔ مثلاً انگریزی میں ’’غیرت‘‘ کے لئے کوئی تلفظ نہیں۔ میں نے ایک انگریز سے غیرت کی انگریزی پوچھی اس نے HONOUR بتائی مگر میرے نزدیک ’’آنر‘‘ کسی بھی صورت ’’غیرت‘‘ کے معنی نہیں دیتا۔ چنانچہ میں نے بات واضح کرنے کے لئے اس سے پوچھا ’’اگر تم اپنی بیوی کو کسی غیر مرد کے ساتھ دیکھو تو تمہیں کیا آئے گا ؟‘‘بولا ’’غصہ آئے گا‘‘ میں نے جھنجھلا کر کہا ’’غیرت نہیں آئے گی ‘‘ اس نے بھی میری ہی طرح جھنجھلا کر کہا ’’وہ کیا ہوتی ہے ؟‘‘ عطاء الحق قاسمی.
تیرا میرا مول [ سندھی افسانے کا اردُو ترجمہ ] (تحرير: امر جليل | ترجمہ: یاسر قاضی) ہمارے اڑوس پڑوس والوں نے جب سے ڈِیپ فريزر خریدے ہیں، تب سے عيدالضحٰے کے موقع پر انہوں نے پابندی کے ساتھ ایک عدد جانور کی قربانی کرنے کا سلسلہ شروع کیا ہے۔ عيد سے کچھ دن قبل ان کا جذبہ دیدنی ہوتا ہے؛ بلکہ رُوح پرور ہوتا ہے۔ اونٹ، بيل، گائے، بھینسیں، سانڈ، بکرے اور دُنبے خريد لاتے ہیں۔ جانوروں کو رنگ روپ اور مہندی لگا کر، زريوں والی جهالریں ڈال کر، اُن کے حُسن کو چار کے قریب چاند تو چپکا ہی دیتے ہیں- عيد سے پہلے والی تمام راتیں ان جانوروں کے ساتھ خود سو کر گزارتے ہیں- اور جاگنے کا کام پڑوسیوں کے حوالے کر دیتے ہیں- طرح طرح کے جانور رات بھر بھانت بھانت کی بولیوں اور آوازوں سے کانوں کے پردوں کے ساتھ آسمان بھی پھاڑ دیتے ہیں۔ تھوڑی دیر کے لیے کسی ایسی جگہ کا ذرا تصوّر تو کر کے دیکھیں، جہاں بيک وقت اونٹ، گائے، بھینسیں، بيل، سانڈ، بکرے اور دُنبے موجود ہوں اور چیخ چیخ کر مشترکہ احتجاج کے لیے اپنی آوازیں بلند کر رہے ہوں! ہم، يعنی میں اور میرا بھائی "چينو" ایسے ہی ایک عبرتناک محلے میں رہتے ہیں اور، سال میں ایک مرتبہ اس دہشتناک تجربے سے گذرتے ہیں۔ نیند نہ مجھے آ رہی تھی، اور نہ چينے کو۔ ہم دونوں ہی جاگ رہے تھے- صحن میں لیٹے ہوئے تھے۔ میں نے اپنی آنکھیں آسمان پہ ٹکا کے رکھی تھیں، اور چينو "طلسمِ ہوشربا" پڑھنے میں محو تھا، اور تقریباََ ہوش سے نکلا جا رہا تھا۔ چينے نے کہا، "بھائی، آجکل کے اخبارات میں سے اگر ڈاکوں، قتل، دہشتگردیوں اور دہشتگردی کی وارداتوں کے بعد ريوڑیاں بانٹنے کی خبریں یکجاء کر کے کتابی صورت میں شايع کی جائیں تو "طلسم ہوشربا" سے زیادہ ہوش اڑانے والی کتاب تيار ہو سکتی ہے!" میں نے جواب دیا، "تجھے ملازمت ولازمت تو ملنی ہے نہیں۔ تُو جب بڑا ہو جائے، تو یہ کام کرنا۔" چينے نے پوچھا، "بھائی، جيل کے باہر کھڑے پوليس والے "ولُّو" کو بھی تو دہشتگردوں نے گولی مار کر مار دیا تھا ناں؟" میں نے فلک کی وُسعتوں سے اپنی آنکھیں ہٹا کر چينے کی طرف دیکھا۔ بولا، "مجھے پتا ہے کہ اس کے بعد تُم کون سا سوال کرنے والے ہو۔" اس نے حيران ہو کر پوچھا، "تمہیں کیسے پتا چلا کہ میں کون سا سوال کروں گا؟" میں نے جواب دیا، "تم اور میں، کُوزہ گر کے گارے میں بُھولی ہوئی مٹّی سے بنے ہوئے انسان ہیں۔ ہم دونوں پاگل ہیں۔" ایسا لگا کہ چينے کو میری بات کا يقين نہیں ہوا- اس نے کہا، "اچھا بھلا بتاؤ کہ میرا اگلا سوال کیا تھا؟" میں نے کہا، "پہلے کوئی شرط تو رکھو۔ آجکل لوگ ثواب بھی انعام کے لالچ کے سوا نہیں کماتے۔" اس نے پوچھا، "دس روپے والا ريفل ٹکٹ خریدا ہے کیا؟" میں نے کہا، "ہاں، ایک ٹکٹ لیا ہے۔" پوچھا، "کتنے انعام کے لالچ میں؟" میں نے کہا، "بیس لاکھ ۔" چينو اُٹھ کر بیٹھ گیا۔ بولا، "ريفل والوں کا حساب ہے جُوئا کی طرح چانس پر۔ تم ایسا کرو۔ دہشتگردوں کے ہاتھوں گولياں کھا کے مرجاؤ۔ تمہیں حکومت کی طرف سے ایکدم بِیس لاکھ مل جائیں گے۔" چينے کے مُنہ میں جو آیا، بولتا گیا؛ پر، جملہ بول چُکنے کے بعد ہی جیسے ساکت ہو گیا۔ پتھر بن گیا۔ ٹکٹکی باندھ کر میری جانب دیکھتا رہا۔ پھر، اچانک سے، اُچھل کر مجھ سے آ لپٹا۔ بمشکل چھ سات برس کا ہے۔ میری روح ہے وہ- کائنات میں سب سے زیادہ پيارا ہے مجھے۔ میرا چہرہ چُومتے ہوئے رو پڑا۔ "ارے پاگل!"میں بولا، "کیا ہوا؟ رو کیوں رہے ہو؟" میں نے اسے گلے لگایا۔ بولا، "میں نے ایسا کیوں کہا، کیوں کہاں۔" "کیا ہو گیا پھر، اگر تم نے کہہ بھی دیا تو۔" میں اُسے پیار کرتے ہوئے بولا، "مجھے اپنی قدر معلوم ہے چينے! میں اگر دہشتگردوں کے ہاتھوں مارا بھی گیا تو سرکار سے زیادہ سے زیادہ دس روپے ہی مل پائیں گے۔ یہی معاشرے میں میرا مول ہے۔ معاوضہ ہے۔" چينے نے پُوچھا، "اور جيل کے باہر کھڑے پوليس والے "ولُّو" کی قدر کتنی ہے؟ جو دہشتگردوں کے ہاتھوں مارا گیا ہے۔" "کچھ يقين سے کہا نہیں جا سکتا چينے۔" میں بولا، "آجکل سبزیوں اور مونگ پھلیوں کی قيمت لگ بھگ برابر ہے۔ دل کرے تو اسے ایک کروڑ روپے دے دیں گے۔ ورنہ اس کی بيوه کو ایک تمغہ، ایک سَند، پانچ سو روپوں کا چيک اور اس کے پانچ سال کے بیٹے کو کانسٹیبل کے طور پر ملازمت دینے کا وعدہ- رہے نام الله کا!" اُسی وقت دروازے پر دستک ہوئی- ایک بار، دوسری بار۔۔۔ چينے نے دوڑ لگا کر کھولنے کے لیے دروازے کی کنڈی میں ہاتھ ڈالا۔ میں نے چيخ کر بولا، "دیکھنا چينے! کوئی دہشتگرد يا ڈاکو نہ ہو۔" چينے نے جواب دیا، "کوئی بھی دہشتگرد ہم پر اپنی قيمتی گولی کیوں ضايع کرے گا، اور کوئی بھی ڈاکو ہمیں تاوان کے لیے اغوا نہیں کرے گا۔ غلطی سے اگر کسی نے اغوا کر بھی لیا، تو اُلٹا پيسے دے کر واپس چھوڑ جائے گا اور آئنده کے لیے توبہ کر لے گا۔" چينے نے دروازہ کھول دیا۔ ایک بدحواس شخص ہانپتا کانپتا اندر چلا آیا، اور ہاتھ جوڑ کر گِڑگڑانے لگا، "خدا کے واسطے مجھے پناہ دو۔ مُجھے چھپاؤ۔ وہ مُجھے مار دینگے۔" چينے نے دروازہ اندر سے بند کر دیا۔ وہ احسانمند نظروں سے ہماری طرف دیکھنے لگا- ■ [ 1991 میں تحریر شدہ ] (منگل، 29 صفرالمظفر 1441ھ ــ 29 اکتوبر 2019ء)
Chand Ke Paar Ebook By Naila Tariq Chand Ke Paar Ebook By Naila Tariq Glimpes of Novel 👇👇👇👇 بس کل میرے ساتھ چل رہی ہیں آپ آئی اسپیشلسٹ... Chand Ke Paar Ebook By Naila Tariq Chand Ke Paar Ebook By Naila Tariq Glimpes of Novel 👇👇👇👇 بس کل میرے ساتھ چل رہی ہیں آپ آئی اسپیشلسٹ کے پاس۔۔۔،لیجیے گیا سوئی میں دھاگہ-" قطعی انداز میں فیصلہ سنا کر اس نے سوئی عابدہ کے حوالے کی تھی "تم فکر نہ کرو،اجر کسی دن مجھے لے جاۓ گی،اس کے ہاسپٹل میں بھی آنکھوں کے ڈاکٹر بیٹھتے ہیں لیکن وہ چھٹیوں پر گئے ہوئے ہیں-" "اس ڈاکٹر کی چھٹیاں ختم ہونے کے انتظار میں آپ کی نظر اور کمزور ہو سکتی ہے اور جو مسلسل سر میں رہتا ہے اس میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے-"وہ بولا تھا "اجر بتا رہی تھی کہ اس ڈاکٹر کی جگہ کوئی دوسرا ڈاکٹر آنے والا ہے۔۔۔۔۔" "یہ تو میں آپ سے کئی بار سن چکا ہوں۔۔۔۔،آپ کی دور اور قریب دونوں ہی نظر کمزور ہے۔۔۔،پتہ نہیں وہ ڈاکٹر کب آۓ،آپ کل میرے ساتھ چل رہی ہیں،زیادہ سے زیادہ آپ کی صاجزادی تھوڑا غصہ کریں گی۔۔۔بس۔۔۔ایسا کیجیے گا مجھے آواز دے دیجیے گا،میں آجاؤں گا،انہوں نے جس قدر باتیں سنانی ہوں میں سن لوں گا۔۔۔۔۔-" "تم آ ہی نہ جاؤ اس کی باتیں سننے،وہ گھر میں ہو تو تم میرے دروازے تک تو آتے نہیں۔۔۔۔"عابدہ مسکرا کر بولی تھیں "آپ کی بیٹی کی آواز سن کر تو میں اپنے دروازے سے باہر نہیں نکلتا بلکہ جلے پیر کا بلا بنا گھومتا ہوں اس خوف سے کہ کہیں میرے قدموں کی آہٹ سے ان کی نیند میں خلل نہ پڑ جاۓ-"اس کے غیر سنجیدہ انداز پر عابدہ دھیرے سے ہنسی تھیں "اب ایسا بھی نہیں ہے،تم اس سے اتنا بھی نہ ڈرا کرو۔" "ڈرتی تو آپ بھی ہیں میرے جتنا نہ سہی اس سے ذرا کم،لیکن ڈرتی تو ہیں-"وہ مسکراتی نظروں سے انہیں دیکھتا بولا تھا "میں بس اس کی ناراضگی سے ڈرتی ہوں،وہ ناراضگی میں بالکل خاموش ہو جاتی ہے تو مجھے اچھا نہیں لگتا-"عابدہ بولی تھیں "اور میری ناراضگی سے تو آپ کو کوئی فرق نہیں پڑے گا،میں جانتا ہوں-"وہ شکایتی لہجے میں بولا Chand Ke Paar Ebook Novel By Naila Tariq مشہور ڈائجسٹ رائیٹر "نائلہ طارق" کا نیا ناول پڑھیں ای بک Ebook میں 🔸بکنگ کی آخری تاریخ 15 جولائی تک ہے اور اسکے بعد تمام کسٹمرز کو ایک ساتھ واٹس ایپ ڈیلیوری کی جائے گی۔۔۔ 🔸بیرون مقیم پاکستانی کسٹمرز کیلئے "چاند کے پار "ناول پرائس $4 ہے۔۔۔۔ Orginal Price/300 After Discount Available Price/200 To order this ebook jazz cash easypaisa 👇👇👇 03357500595 After Payment Share ss/txr Id payment proof 0